Al-Risala · April 2013 · page

God is nothing other than man himself.

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

لدوگ فیورباخ (Ludwig Feverbach) جس کی وفات 1872 میں ہوئی، اس نے لکھا ہے کہ ـ انسان ہی خدا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں:

God is nothing other than man himself.

امریکی فلسفی ولیم جیمس (William James) جس کی وفات 1910 میں ہوئی، وہ بھی ہیومن ازم کا حامی تھا، انگلش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) جس کی وفات 1975 میں ہوئی، اس نے ہیومن ازم کی حمایت میں ایک کتاب لکھی۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: Religion Without Revelation اس کتاب میں ہیومن ازم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔ سیٹ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہو جانا (Transfer of seat from God to Man)۔

ہیومن ازم کے موضوع پر عام قاری کے لیے ایک قابل مطالعہ کتاب یہ ہے: Humanism: A Very Short Introduction, by Stephen Law, 2011 بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہیومن ازم کے فلسفے کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ لوگوں نے یہ فرض کر لیا کہ انھیں دین خداوندی کا ایک بدل مل گیا ہے۔ غیر خدا پرست طبقے میں یہ سمجھا جانے لگا کہ ـ انسان ہی ہر اعتبار سے سب کچھ ہے۔ (Man is the measure of all things) مگر عین اسی زمانے میں ایک نیا طاقت ور ظاہر ہوا جس نے ہیومن ازم کے تصور کو عملاً باطل ثابت کر دیا۔ یہ طاقت ورظاہر وہ تھاجس کو عام طور پر گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے، یعنی عالمی سطح پر حرارت کا غیر متناسب طور پر بڑھ جانا جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں جدید ٹیکنالوجی کے ظہور کے بعد انڈسٹری کو بہت ترقی ہوئی۔ مختلف ملکوں میں کثیر تعداد میں بڑے بڑے کارخانے قائم ہوئے۔ ان کارخانوں کو چلانے کے لیے جو ایندھن (fuel) استعمال ہوتا تھا، اُس سے مسلسل طور پر بڑی مقدار میں کاربن خارج ہونے لگا۔ اس اخراج کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کاربن ایمیشن نے زمین کے اوپر قائم شدہ فضا کو خطرناک حد تک آلودہ بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page