Al-Risala · April 2013 · page

نصرت باعتبار فتح

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

اپنے مشن کے تحت طائف اور دوسرے مقامات پر جاتے ہیں، کبھی دار الندوہ میں پیغمبر اسلام کے خلاف مشورہ ہو رہا ہے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، وغیرہ۔

پھر جب مکہ میں 13 سال قیام کے بعد آپ مکہ سے 300 میل کی دوری پر واقع شہر مدینہ چلے جاتے ہیں تو اس تذکرے میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب غزوات اور سرایا اور جھڑپوں (skirmishes) جیسے واقعات کے نتیجے میں آپ کا اور آپ کے مشن کا چرچا تمام عرب میں، حتیٰ کہ اطراف عرب میں پھیل جاتا ہے۔ آپ کے مخالفین کی مخالفانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بظاہر بہت سے واقعات ہو رہے تھے جو مسلسل لوگوں کے علم میں آ رہے تھے۔ اسی کے ساتھ ایک بلا اعلان عمل جاری تھا۔ یہ عمل ان واقعات کے درمیان ایک انڈرکرنٹ یا زیرِ سطح عمل (underneath the surface process) کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ لوگوں کے اندر نہایت تیزی سے تجسس کی نفسیات پیدا کر رہا تھا۔ لوگ فطری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ یہ مشن کیا ہے اور اس مشن سے وابستہ افراد کا معاملہ کیا ہے۔ تجسس کی یہ زیریں رو اللہ کے منصوبے کے مطابق، عین مطلوب تھی، کیوں کہ اُس سے پیغمبر اسلام کے مشن کے دعوتی مواقع مسلسل طور پر بڑھ رہے تھے۔ یہی وہ عمل ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار پر اس کا نام دیا ہے۔

نصرت باعتبار فتح

ہجرت کے دوسرے سال اس انڈر کرنٹ عمل پر تقریباً 20 سال گزر چکے تھے۔

نصرت باعتبار پر اس کا عمل اپنی تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ اس پیدا شدہ امکان کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال (avail) کیا جائے۔ مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً نا ممکن ہو گیا تھا۔ اس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا۔ اس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے۔ وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ اس کے مطابق،

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page