نصرت باعتبار فتح
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ اہل مکہ کو پیغمبر اسلام کے اِس سفر کی اطلاع ہوگئی۔ انھوں نے طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کوروک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اِس کے بعد اہل مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریبا دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت وشنید جاری رہی۔ اس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ آپ اہل مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورت حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty) ہو جائے۔ صلح کا یہ معاہدہ جب کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اہل مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیت جاہلیہ (48:26) کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتیٰ کہ انھوں نے اصرار کیا کہ ”رسول اللہ “کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے اہل مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اِس لیے کہ اس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہو رہا تھا۔ حدیبیہ کا معاہدہ صلح اہل مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا۔ چناں چہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: لما نعطي الدنية من ديننا (صحیح البخاري، رقم الحديث: 2731) یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں اِس ذلت آمیز معاہدے کو کیوں قبول کریں۔ ایک صحابی نے رسول اللہ سے کہا کہ آپ نے مدینہ میں اپنے ایک خواب کے حوالے سے ہم کو بتایا تھا کہ ہم عمرہ کرنے مکہ جا رہے ہیں، پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ عمرہ کے بغیر درمیان سے لوٹ رہے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ کیا میں نے یہ کہا تھا کہ ہم اسی سال مکہ جا کر عمرہ کریں گے (أفأخبرتك أنا نأتيه العام؟ )۔ اِن تمام مخالفتوں کے باوجود آپ نے اہل مکہ سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues