نصرت باعتبار فتح
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
امن کا معاہدہ کر لیا اور حدیبیہ سے مدینہ کے لیے واپسی کا فیصلہ فرما لیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ سورہ اتری جو قرآن میں الفتح کے نام سے شامل ہے۔ اس سورہ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سورہ اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی تو ابتداء صحابہ کو یہ بیان بہت عجیب معلوم ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: او فتح ہو یا رسول اللہ - قال: نعم، والذي نفسي بیدہ إنه لفتح (القرطبی 16/261) یعنی اے خدا کے رسول، کیا یہ کوئی فتح ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے۔ اِسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: ما هذا بفتح - فقال: بل هو أعظم الفتوح - (القرطبی 16/260) یعنی یہ تو کوئی فتح نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی۔ اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریق ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں۔ میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔
اس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لقد كان الحديبية أعظم الفتوح (القرطبی، 16/261) یعنی حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی۔ مگر یہ سادہ طور پر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning) کی بات تھی۔ یہ کوئی اتفاقی نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک گہری منصوبہ بندی کے ذریعے پیش آنے والا منصوبہ تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار فتح کا عنوان دیا ہے۔
یہ معاملہ دراصل نصرت بذریعہ پراسس کا معاملہ تھا۔ حدیبیہ سے پہلے تقریباً 20 سال تک بظاہر ٹکراؤ اور مخالفت کے جو واقعات پیش آرہے تھے، اُن کے ساتھ فطری طور پر ایک زیر سطح پراسس
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues