حدیبیہ اور اسوہ رسول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
جاری تھا۔ اس پر اس کو ایک لفظ میں منفی تعارف کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر ایک کے لیے اسلام ایک ایسی حقیقت بن گیا جو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ اُس کو براہِ راست جاننے کی کوشش کی جائے ۔ دوسرے لفظوں میں، اس صورت حال نے بڑے پیمانے پر اسلام کے لیے دعوت کے مواقع پیدا کر دئے، جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔
معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلاشبہ ایک حکیمانہ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ یہ حکیمانہ منصوبہ بندی تمام تر فطرت کے قوانین پر مبنی ہے، اس لیے ہر زمانے میں دوبارہ اس کا کامیاب تجربہ کیا جا سکتا ہے، جس طرح دور اول میں اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا’’نصرت باعتبار فتح‘‘ کا معاملہ خصائصِ نبوی کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ اسوہ نبوی کا معاملہ ہے۔ اس کو ہر زمانے میں اُسی طرح دہرایا جا سکتا ہے جس طرح پیغمبر کے دوسرے نمونوں کو دہرایا جا سکتا ہے۔
حدیبیہ اور اسوہ رسول
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہل ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ مثلاً ازواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (33:50)۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اور ہر فعل امت کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلاشبہ ایک قابل تقلید اسوہ رسول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی وہ حالات پیدا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 6 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، تو اُس وقت اسوہ حدیبیہ اُسی طرح امت کے لیے قابل اتباع بن جائے گا، جس طرح وہ دورِ اول کے اہل ایمان کے لیے قابل اتباع بنا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues