حکمت حدیبیہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
معاہدہ حدیبیہ ایک فتح کا معاملہ تھا۔ فتح کا معاملہ صرف پیغمبر کے لیے خاص نہیں، وہ تمام امت کے لیے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ قرآن میں بار بار فتح کو اہل ایمان کے لیے ایک عمومی مطلوب کی حیثیت سے بتایا گیا ہے۔ مثلاً: وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (61:13) جب فتح پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہے تو فتح کی تدبیر بھی یقینی طور پر پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہوگی۔ فتح اور تدبیر فتح کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں تدبیر فتح سے مراد سیاسی فتح (political victory) نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے۔ موجودہ زمانے میں اس نظریاتی فتح کا امکان پوری طرح پیدا ہو چکا ہے۔ مگر اس نظریاتی فتح کو واقعہ بنانا صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ حکمت حدیبیہ کو سمجھا جائے اور آج کے حالات کے لحاظ سے اس کا استعمال کیا جائے۔
حکمت حدیبیہ
حدیبیہ کے واقعے کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ الحدبیہ کے عنوان کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ دوسرے بہت سے غزوات میں سے ایک غزوہ تھا۔ حالاں کہ حدیبیہ کا واقعہ نہ غزوہ تھا اور نہ دوسرے واقعات نبوی کی طرح صرف ایک واقعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ایک اعلیٰ درجے کا منصوبہ تھا۔ حدیبیہ کے واقعے کو، معروف معنی میں، غزوہ کہنا بلا شبہ اس کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے کے ہم معنی ہے۔
حکمتِ حدیبیہ دراصل ایک فطری قانون ہے۔ اس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ الفتح میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی۔ یہ قرآن کا ایک اسلوب ہے۔ اس سے مراد اللہ کا علم غیب نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُس وقت ایک صورتِ حال موجود تھی، لیکن اس کو جاننے کے لیے ربانی عقل درکار تھی، عام آدمی اُس کو سمجھ نہیں سکتا۔ عام آدمی ہمیشہ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتا ہے، عام آدمی صرف اُس بات کو جان پاتا ہے جو سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن ربانی عقل رکھنے والا انسان
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues