حکمت حدیبیہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
اپنی بصیرت کے تحت اُس حقیقت کو جان لیتا ہے جو وہاں زیرِ سطح موجود ہوتی ہے۔ 6 ہجری میں عرب کے اندر یہ صورتِ حال تھی کہ بظاہر لوگ پیغمبر کے مخالف بنے ہوئے تھے، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے، ہر ایک کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) آچکا تھا، یعنی شعوری یا غیر شعوری طور پر مذہبِ توحید کے بارے میں دلوں کے اندر نرم گوشہ (soft corner) کا پیدا ہونا۔ اس کی ایک علامتی مثال خالد بن الولید (وفات: 21 ہجری) کا واقعہ ہے۔ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے۔ وہ اپنے اُس وقت کے احساس کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: قد شهدت هذا المواطن كلها على محمد صلى الله عليه وسلم، فليس في مواطن أشهده إلا أنصرف وأنا أرى في نفسي أني موضع في غير شيء (حياة الصحابة، جلد 1، صفحہ 160) خالد بن الولید کے ان الفاظ کو اگر جنرلائز کیا جائے تو اُس وقت کے عربوں کی اکثریت کا احساس یہی ہو چکا تھا۔ اگرچہ خارجی سطح پر ٹکراؤ اور مخالفت کا ماحول نظر آتا تھا، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے بیش تر لوگ فقد صغت قلوبكما (66:4) کا نمونہ بن چکے تھے۔
یہ صورتِ حال تھی جس کو استعمال (avail) کرنے کے لیے ایک عملِ اعتدال (process of normalization) درکار تھا، کیوں کہ معتدل ماحول کے بغیر اس امکان کو استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یک طرفہ بنیاد پر معاہدہ حدیبیہ کر کے یہی معتدل ماحول بنایا گیا۔ اور اس کے بعد فطری طور پر وہ نتیجہ برآمد ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (110:1-2) ظاہر دنیا، باطن دنیا صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی۔ اس واقعے کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔ جس حکمت (wisdom) کے تحت حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا، اُس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی، پس اللہ نے اس سے پہلے ایک فتح قریب ٹھہرا دی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues