سیکولر مثال
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں ایک برٹش کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ تار بھیجا۔ براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ’’شیر‘‘ کو ہتھیار کے استعمال کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے: Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. یہ ایک سیکولر مثال ہے کہ کس طرح ایک لیڈر نے اپنے زمانے کے انڈر کرنٹ حالات کو سمجھا اور کامیابی کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصولِ فطرت کا ایک اصول ہے۔ یہ ایک فطری امکان ہے جو ہمیشہ اور ہر صورتِ حال میں موجود رہتا ہے۔ اِس امکان کو ہر بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ سیکولر مقصد ہو یا مذہبی مقصد۔ یہی امکان موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے پوری طرح موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے حکیمانہ انداز میں اس کو استعمال کیا جائے۔ فضلِ عظیم کا معاملہ قرآن کی سورہ النساءِ میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مَّنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (4:113) یعنی اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو اُن میں سے ایک گروہ نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ تم کو بہکا کر رہے گا، حالاں کہ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں، وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے، اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا۔
قرآن کی اس آیت میں ’فضل‘ کا لفظ کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے۔ فضل کے لفظی معنی ہیں: زیادہ یا شئی مزید (additional thing)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے علاوہ ایک مزید چیز دی گئی جو کہ ختم نبوت کا رول ادا کرنے کی نسبت سے آپ کے لیے ضروری تھی، یعنی وہ اسباب یا مواقع جن کو استعمال کر کے آپ خاتم النبیین کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دے سکیں ۔ مثلاً ہاجرہ اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues