Al-Risala · April 2013 · page

سیکولر مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

اسماعیل کے ذریعے سے ایک نئی نسل کی تیاری جس کو ذکر قرآن کی سورہ ابراہیم (14) کی آیت نمبر 37 میں کیا گیا ہے، یا ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر دونوں کو کمزور کر دینا، جس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کی آیت نمبر 2 میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت (4:113) میں اسی قسم کی نصرت مراد ہے، نہ کہ پراسرار قسم کی کوئی شخصی فضیلت نصرت کا یہ خصوصی معاملہ پیغمبر کے مشن کی نسبت سے تھا، نہ کہ پیغمبر کی ذات کی نسبت سے۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں علم کی تعلیم (وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ) سے مراد علم وحی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد مذکورہ قسم کے موافق امکانات سے پیغمبر کو باخبر کرنا ہے۔ یہی اسلوب سورہ الفتح (48) میں اختیار کیا گیا ہے جہاں ’علم ما لم تعلموا‘ کا لفظ آیا ہے۔ سورہ الفتح کی اس آیت میں علم سے مراد وہ موافق امکانات ہیں جو معاہدہ حدیبیہ کے اندر باعتبار نتیجہ چھپے ہوئے تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلے زمانوں میں ہزاروں سال کے دوران بہت سے پیغمبر بھیجے (23:44)۔ ان پیغمبروں نے نبوت کا فریضہ پوری طرح انجام دیا، لیکن ان کا مشن صرف اعلان توحید تک پہنچا۔ اُن میں سے کسی کے زمانے میں نہ مطلوب قسم کی امت بنی اور نہ دین خداوندی کا متن محفوظ ہو سکا اور نہ توحید پر مبنی عمومی انقلاب آیا، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود تھا۔ یہی وجہ تھی جس کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی اسباب فراہم کیے۔ ان اسباب کو استعمال کر کے یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں توحید پر مبنی انقلاب آئے اور دین خداوندی کی نئی تاریخ بنے۔ پیغمبر اسلام کے لیے وحی کے علاوہ، جو مزید موافق اسباب فراہم کیے گئے، انھیں کو قرآن میں فضل کہا گیا ہے، یعنی اضافی اسباب یا مزید نصرت۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لمبی مدت کے اندر یہ اضافی اسباب فراہم کیے، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ ان اسباب کو استعمال کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کی تکمیل کریں۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں ’وعلّمک ما لم تکن تعلم، اُس وحی کے لیے نہیں ہے جو قرآن کی سورت میں آپ پر نازل ہوئی۔ بلکہ اس سے مراد وہ علم ہے جس کا تعلق مذکورہ موافق امکانات

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page