Al-Risala · April 2013 · page

سیکولر مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

سے ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر ان موافق امکانات کی خبر دی، تا کہ آپ شعوری طور پر ان امکانات سے واقف ہوں اور ان کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کر سکیں۔ 6 ہجری میں پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر فاروق کو اس معاہدے پر سخت اختلاف ہو گیا تھا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے: قال عمر: فأتيت أبابكر، فقلت يا أبابكر، أليس هذا نبي الله حقاً؟ قال: بلى۔ قلت: ألسنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال: بلى، قلت: فلم نعطي الدنية في ديننا إذاً؟ قال: أيها الرجل، إنه رسول الله وليس يعصي ربه، وهو ناصره، فاستمسك بغرزه، فوالله إنه على الحق - (تفسیر ابن کثیر 4/ 199) یعنی عمر فاروق کہتے ہیں کہ پھر میں ابو بکر کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے ابو بکر، کیا رسول اللہ نبی برحق نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرور آپ نبی برحق ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے۔ انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں۔ ابو بکر نے کہا کہ اے شخص، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کبھی اپنے رب کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ خدا کی قسم، وہ حق پر ہیں۔ دورِ جدید کی مثال قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ کے جس 'فضلِ عظیم' کا ذکر ہے، اس کا ظہور صرف ایک بار نہیں ہوا، بلکہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح وہ بھی تاریخ میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ فضل یا اضافی نصرت بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہو چکی ہے۔ اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کو خدائی مشن کے حق میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا، تا کہ وہ سارے عالم کو امرِ حق سے آگاہ کر دے (25:1)۔ اس آیت میں جس عالمی نشانے کا ذکر ہے، وہ اول دن سے مطلوب تھا،

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page