Al-Risala · May 2013 · page

حضرت ابراہیم کی امامت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

حضرت ابراہیم کی امامت

حضرت ابراہیم تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے ۔ وہ تینوں سامی مذاہب ـــ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مشترک پیشوا مانے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کے بارے میں قرآن میں عالمی امامت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا (2:124) یعنی جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو ابراہیم نے اُن کو پورا کر دکھایا۔ اللہ نے کہا میں تم کو تمام انسانوں کا امام بناؤں گا۔ حضرت ابراہیم کا ذکر بائبل (عہد نامہ قدیم) میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی امامت کے بارے میں قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بائبل میں بھی ان الفاظ میں آئی ہے ـــ اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی :

All the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18:18)

قرآن اور بائبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو عالمی امامت کا درجہ دیا۔ یہ عالمی امامت کیا تھی، اس کے بارے میں یہودی علما، مسیحی علما اور مسلم علما تقریباً سب کے سب بے خبری میں مبتلا ہیں۔ وہ اس کو صرف ایک پراسرار (mysterious) مفہوم میں لیے ہوئے ہیں، حالاں کہ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔ اس کی عظمت صرف اُس وقت واضح ہوتی ہے جب کہ اس کو تاریخ کی زبان میں بیان کیا جائے ۔

منصوبہ تخلیق

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے بعد انسانی نسلوں کی ہدایت کے لیے اولاً پیغمبر بھیجنا شروع کیا۔ حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک بڑی تعداد میں پیغمبر آئے، لیکن دنیا میں مطلوب حالت قائم نہ ہوسکی ۔ وہ مطلوب حالت یہ تھی کہ ایک طرف، دین خداوندی کا مستند متن محفوظ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page