Al-Risala · May 2013 · page

منصوبہ تخلیق

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

ہو جائے ۔ اور دوسری طرف انسان کو دین خداوندی کے معاملے میں کامل آزادی حاصل ہو۔ دین کے معاملے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ مگر مختلف اسباب کے تحت ایسا ہوا کہ انسانی زندگی میں ایک برعکس حالت قائم ہوگئی۔ اس کو ایک لفظ میں، استبدادیت (despotism) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں ہر جگہ انسانی زندگی میں استبدادی ماڈل (despotic model) رائج ہوگیا۔ اس ماڈل کے تحت انسانی زندگی کے تمام معاملات مُستَبِد حکمران (despotic rulers) کے تحت آگئے۔ یہ مُستَبِد حکمران اپنے مزاج کے تحت ہر نئی چیز کے دشمن ہوتے تھے۔ وہ ہر نئی تحریک کو پوری طاقت سے کچل دیتے تھے، تا کہ لوگوں کے اوپر ان کی حکمرانی غیر مشروط طور پر قائم رہے۔ اِسی نظام کا ایک ظاہر وہ تھا جس کو قرآن میں فتنہ (8:39) کہا گیا ہے۔ اس ظاہرے کا سیکولر نام مذہبی جبر ہے۔ اِسی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں لوگوں کو مذہب توحید اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی، کیوں کہ وہ حکمراں کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف ہوتا تھا۔ اسی بنا پر قدیم زمانے میں موحدین کو قتل کر دیا گیا یا آگ میں جلا دیا گیا۔ اِسی بنا پر اصحابِ کہف (Seven Sleepers) اپنی بستی کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے جو شدید واقعات پیش آئے، اس کا سبب کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، بلکہ اس کا سبب تمام تر صرف مذہبی اختلاف تھا۔ نیا عمل حضرت ابراہیم کے زمانے میں اللہ نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ یہ عمل انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر کیا گیا۔ اسی کے ساتھ اسباب کے ماحول کو پوری طرح برقرار رکھا گیا۔ اس صورت حال کی بنا پر اس خدائی عمل کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) شامل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذاہب ثلاثہ کے علماءِ خدا کے اس منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ حضرت ابراہیم کی امامت کا معاملہ علما مذاہب کے لیے ایک پر اسرار معاملہ بنار ہا۔

مذاہب ثلاثہ کے علما اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ اس واقعے کی کوئی ایسی تو جیہہ دریافت نہ کر سکے جو اس معاملے میں اُن کو یقین پر کھڑا کرنے والی ہو۔ انھوں نے اپنے ذہنی سانچے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page