منصوبہ تخلیق
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
(mind-set) کے اعتبار سے، بعض توجیہات کیں، مگر انھوں نے دیکھا کہ ان توجیہات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں ہورہی ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہوکر رہ گئے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دنیا کو توحید کی مستند آئیڈیالوجی ملی۔ مگر یہ بات حقیقت واقعہ کے خلاف ہے، کیوں کہ دنیا کو توحید کی آئیڈیالوجی قرآن کے ذریعے حاصل ہوئی، نہ کہ صحف ابراہیم (87:19) کے ذریعے، جو کہ عملاً اب گم شدہ صحائف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوئی، مگر تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر نہیں جب کہ ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہو اور حضرت ابراہیم اس میں صدر کی حیثیت رکھتے ہوں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام توجیہات لوگوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں، اُن کا خدا کے نقشہ تخلیق سے کوئی تعلق نہیں۔
اس معاملے میں خدا کا منصوبہ کیا تھا، اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کو اکمال دین (5:3) کی آیت کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں اکمال دین سے مراد شرعی احکام کی فہرست کا مکمل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اہل دین کے لیے خوف کی حالت کا خاتمہ ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آیت میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے: الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3) یعنی آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کسی وقتی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اس میں ایک تاریخی حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ آیت حجة الوداع (10 ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دور کے آغاز کا اعلان تھا۔ یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ اگرچہ اہل مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اس حقیقت سے بے خبر رہے۔ اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی، اس کا خاص نشانہ