Al-Risala · May 2013 · page

منصوبہ تخلیق

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہو جائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طور پر آزاد ہو جائے۔ یہ منصوبہ بندی مکمل طور پر ایک غیر سیاسی منصوبہ بندی تھی۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے جو منصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے ۔ ایک یہ تھا کہ مطلوب صورت حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کرنا جو آخر کار ایک نئے دور کو وجود میں لائے، جب کہ مذکورہ ابتدائی اور وقتی نمونہ ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلے اور اس طرح تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عمومی طور پر اور مستقل طور پر یہ امکان کھل جائے کہ وہ کسی بھی جبر کے بغیر ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہوں۔ اپنے ذاتی عقیدے کے معاملے میں بھی اور دوسروں کے درمیان اپنے عقیدے کی اشاعت کے معاملے میں بھی۔

وہ چیز جس کو اوپر ابتدائی نمونہ (prototype) کہا گیا ہے، اس کی مثال حضرت یوسف کے ذریعے قائم کی گئی۔ حضرت یوسف، حضرت ابراہیم کے گریٹ گرینڈسن (great grandson) تھے۔ وہ فلسطین اور شام کے درمیان ایک گاؤں (کنعان) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں مصر ایک ترقی یافتہ ملک تھا۔ یہاں ایک خاندان حکومت کرتا تھا، جس کو ہکساس بادشاہ (Hyksos Kings) کہا جاتا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں یہاں جو بادشاہ حکومت کر رہا تھا، اس کا نام یہ تھا— اپوفس (Apophis)۔ یہ بادشاہ استثنائی طور پر ایک منفرد مزاج کا آدمی تھا۔ وہ شخصی طور پر ایسی صفات کا حامل تھا جو مطلوب منصوبے کے لیے ایک موزوں کردار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی منصوبے کے تحت حضرت یوسف کو کنعان سے نکال کر قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis) پہنچایا گیا۔ یہاں ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے تحت حضرت یوسف اُس وقت کے مصری بادشاہ کے دربار میں پہنچے۔ بادشاہ حضرت یوسف کی صلاحیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اُس نے اپنے ایک فیصلے کے تحت، حضرت یوسف کو مصر کے خزائن (وسائل ارض) کا انچارج بنا دیا (12:55)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page