Al-Risala · May 2013 · page

منصوبہ تخلیق

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

حضرت یوسف کا یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں یکساں طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بائبل کا بیان یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا۔ میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا:

Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40)

حضرت یوسف کے ذریعے مصر میں جو مثال قائم ہوئی، وہ دراصل اُس عمومی اور عالمی حالت کا ایک ابتدائی نمونہ تھا جو حضرت ابراہیم کے جاری کردہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بعد کو زیادہ بڑے پیمانے پر قائم ہونے والا تھا۔ حضرت یوسف کے ذریعے قدیم مصر میں یہ مثال قائم ہوئی کہ اگر حاكم کے محدود سیاسی اقتدار کو تسلیم کر لیا جائے اور اُس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو کس طرح ایک انسان کے لیے ہر قسم کے مذہبی دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ گویا سیاسی ادارہ (political institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا۔ یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کے عین مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہا گیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story)۔

قرآن کی اس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سے مراد دراصل بہترین ماڈل (best model) ہے۔ اللہ تعالی کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیا گیا۔ اس معاملے کو دوسرے الفاظ میں، اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model) کو دنیا میں رائج کرنا۔ کچھ لوگ جمہوری نظام کو لا دینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اس پر راضی ہو جانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا۔ نظام ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page