منصوبہ تخلیق
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔ مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت و تبلیغ، وغیرہ۔ اس میں وہ تمام پُرامن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities) یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ نئی نسل کی تیاری اس سلسلے میں دوسری زیادہ بڑی منصوبہ بندی جو حضرت ابراہیم کے ذریعے چار ہزار سال پہلے شروع کی گئی، اس کا مرکز قدیم مکہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی ایک دعا میں یہ الفاظ کہے تھے: رب إنهن أضللن كثيراً (14:35)۔ ان الفاظ میں دراصل اُس دور کا ذکر تھا جس کو ماقبل ابراہیم دور (pre-Abraham age) کہا جاسکتا ہے۔ اس قدیم دور میں شرک تمام انسانی آبادیوں میں ایک عمومی کلچر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، حتیٰ کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا ۔ مزید یہ کہ مشرکانہ کلچر کو قدیم زمانے کی حکومتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
اس حکومتی حمایت کی بنا پر ایک شدید تر صورت حال پیدا ہو گئی ۔ وہ تھا— اعتقادی شرک کے ساتھ اس میں حکومتی تشدد کا شامل ہو جانا۔ اعتقادی شرک اور سیاسی اقتدار کے اس اتحاد کی بنا پر وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ اس نظامِ جبر کو ختم کر کے نظامِ آزادی کو دنیا میں لانا ایک لمبا تاریخی منصوبہ تھا۔ اس کے لیے صرف آئیڈیالوجی کافی نہیں تھی، اس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک مطلوب ٹیم وجود میں آئے۔ یہ ٹیم ایک آئڈیالوجی کے تحت متحد ہو، تمام ضروری شرطوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ ٹیم ایک ہمہ گیر جدوجہد کرے، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے انقلابی عمل (revolutionary process) کا آغاز کرے، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنا سفر شروع کرے اور پھر اللہ کی خصوصی تدبیر (management) کے ذریعے وہ اپنے منتہا (culmination) تک پہنچ جائے۔ اٹھارھویں صدی میں جو سیاسی انقلاب آگیا اور جس کے نتیجے میں جمہوری ماڈل دنیا میں رائج ہوا، وہ حضرت ابراہیم کے ذریعے جاری کردہ اسی عمل کی تکمیل کی حیثیت رکھتا تھا۔