Al-Risala · May 2013 · page

رسول اور اصحابِ رسول کی مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

سے افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں خلیفہ کے الفاظ محض ایک شخص کے الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے گویا بین اقوام پالیسی کا اعلان تھا۔ یہ پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ تاریخ کو ایک نیا شیپ (shape) دیتی رہی، یہاں تک کہ یہ عمل یورپ تک پہنچ گیا۔ فرانس کے مشہور جمہوری مفکر روسو (J. J. Rousseau) کی کتاب سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) 1762 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں جمہوریت (democracy) کی آئیڈیالوجی کو پیش کیا گیا تھا۔ روسو نے اپنی کتاب کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ گویا خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ قول کا اعادہ تھا۔ روسو کی کتاب کا ابتدائی جملہ یہ تھا— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains. جمہوریت کی یہ تحریک 1789 میں ایک باقاعدہ سیاسی واقعہ بن گئی، جب کہ یورپ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو انقلاب فرانس (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس نے اصولی طور پر بادشاہت (kingship) کے نظام کا خاتمہ کر دیا اور جمہوریت کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل قائم کر دیا۔ یہ تاریخی عمل 1948 میں آخری طور پر مکمل ہو گیا، جب کہ اقوام متحدہ (UNO) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا اور دنیا کی تمام قومیں باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کی ممبر بن گئیں۔ اس ادارے کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اس عہد نامے پر دستخط کر دئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ استبدادی ماڈل اب آخری طور پر غیر مطلوب ماڈل قرار پا گیا اور جمہوری ماڈل کو عملاً مسلمہ ماڈل کی حیثیت دے دی گئی۔ جمہوری ماڈل جمہوریت کی تعریف (definition) عام طور پر اس طرح کی جاتی ہے — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے:

Government of the people, by the people, for the people یہ تعریف جمہوریت کے صرف ظاہری ڈھانچے کو بتاتی ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جمہوریت کے حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page