رسول اور اصحابِ رسول کی مثال
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو ہر حال میں باقی رکھا جائے ۔ جو کام بھی کیا جائے ، وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جائے ۔ خدا کے اسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تہذیبی ترقیوں کے ساتھ انسان کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے ، خواہ اس کے نتیجے میں فساد کی صورتیں پیدا ہو جائیں ۔ یہ دو طرفہ صورتِ حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان تھی ۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے رہنما اُس صلاحیت کا ثبوت دیں جس کو خدا کی کتاب میں فرقان (9:29) کہا گیا ہے ، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے دیکھنا۔ اس موقع پر مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور اہلِ مغرب کی قومی سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں ۔ مغربی تہذیب ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، مغربی تہذیب نہیں ہے ، بلکہ وہ خدائی تہذیب (divine civilization) ہے۔ وہ فطرت میں چھپے ہوئے خدائی قوانین کی دریافت کے ذریعے وجود میں آئی ہے ۔ وہ قوانین فطرت کا انسانی سطح پر ظہور ہے۔ فطرت کے قوانین جب انسانی ٹکنالوجی میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام تہذیب ہوتا ہے۔ جدید تہذیب کو سمجھنے کے لیے اُسی طرح اس کو مغرب کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھنا چاہئے ، جس طرح اسلام کو مسلمانوں کے قومی پہلو سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے۔
دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اس بصیرت کے حامل ہوتے کہ وہ جدید تہذیب اور مغربی قوم ، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھتے تو یقیناً وہ پا لیتے کہ جدید تہذیب اُن کے لیے ایک خدائی نعمت ہے ، وہ حضرت یوسف کے 'احسن القصص' کا عالمی اظہار ہے ، وہ حضرت ابراہیم کے جاری کردہ عمل (process) کا براہِ راست حصہ ہے ، وہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا تکمیلی مرحلہ ہے۔ جدید تہذیب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے وہ عالمی مواقعہ آخری حد تک کھول دئے ہیں ، جب کہ پیغمبرِ اسلام کی ایک پیشین گوئی کو واقع بنایا جا سکے۔ آپ کی اس پیشین گوئی کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے — ادخال الكلمة في كل البيوت ۔ اوپر کے صفحات میں تاریخ کا جو جائزہ پیش کیا گیا ہے ، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ