ایک مسئلے کی وضاحت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
خدائی منصوبہ کیا تھا جس کو قرآن میں امامت ابراہیم کہاگیاتھا اور جس کے بارے میں بائبل میں یہ الفاظ آئے تھے کہ زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی۔
اس خدائی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کرے گا جو آخر کار اس انجام تک پہنچے گا کہ انسانی زندگی میں سیاسی جبر کا فتنہ کامل طور پر ختم ہو جائے اور جمہوریت کے تحت ایک ایسا سیاسی نظام بنے گا جس میں دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر وہ حالت قائم ہو جائے گی جو حضرت یوسف کے زمانے میں قدیم مصر میں وقتی طور پر اور محدود طور پر قائم ہوئی تھی، یعنی سیاسی حکمراں کا اقتدار ”تخت‘‘ تک محدود رہے گا۔ ”تخت‘‘ کے سوا تمام غیر سیاسی شعبے مکمل طور پر آزاد ہو جائیں گے۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ کامل معنوں میں مذہبی آزادی کی فضا میں جیے۔ وہ اپنے چوائس (choice) کے مطابق، جس مذہبی عقیدے کو چاہے، اختیار کرے، وہ عبادت کے جس طریقے کو چاہے، اس کے مطابق، عبادت کرے۔ مذہب کی تبلیغ و اشاعت پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہو، اس واحد شرط کے سوا کوئی اور شرط اس کے لیے موجود نہ ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو کسی بھی قسم کی عملی جراحت (physical injury) نہیں پہنچائے گا۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی واحد ممکن ماڈل تھا جس کو اللہ کے منصوبے کے تحت بروئے کار لایا گیا۔
اس مذہبی آزادی میں یہ بات بھی اپنے آپ شامل ہے کہ تمام مواقع کار جو سیکولر لوگوں کو حاصل ہوں گے، وہ سب کے سب مکمل طور پر اہل مذہب کو بھی حاصل ہوں گے۔ مواقع کے استعمال میں مذہبی انسان اور غیر مذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔
ایک مسئلے کی وضاحت
انسانی زندگی کی تشکیل کا جو نقشہ اوپر بیان کیا گیا ہے، بظاہر اس میں حکومت یا سیاسی اقتدار کا معاملہ شامل نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر وہ یقیناً اس میں شامل ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ اگر