Al-Risala · May 2013 · page 22

ایک مسئلے کی وضاحت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳، صفحہ ۲۲

حکومت کے معاملے کو مذکورہ نقشہ میں شامل کیا جائے تو پورا خدائی منصوبہ تخلیق عملاً معطل ہو کر رہ جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں شعبوں میں کوئی مثبت کام نہ ہو سکے گا، نہ عبادت اور دعوت کے شعبے میں اور نہ سیاست اور حکومت کے شعبے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں شعبوں کی حیثیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ عقیدہ اور عبادت اور دعوت کا معاملہ اُس میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اس کے برعکس، سیاست کا دائرہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی فوراَ دوسرے فریق سے نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ سیاست کے دائرے میں ہمیشہ کوئی فرد یا گروہ اتھارٹی کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اس لیے سیاست کے دائرے میں داخل ہونا عملاً پولیٹکل اتھارٹی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہ ٹکراؤ اس ماحول کو ختم کر دیتا ہے جب کہ ایک شخص عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں موجود مواقع کو استعمال (avail) کر سکے۔ خدا کے منصوبہ تخلیق میں اس مسئلے کا حل یہ مقرر کیا گیا کہ سیاسی اقتدار کے شعبے کو عقیدہ سے وابستہ کرنے کے بجائے اس کو سماجی حالات (social conditions) سے وابستہ کر دیا جائے، یعنی کسی وقت سماج کے جو حالات ہوں اور انسانوں کے درمیان جس سیاسی ڈھانچے پر اتفاق ہو سکتا ہے، اس کو اختیار کر لیا جائے۔ یہ صورت حال جاری رہے گی، یہاں تک کہ سماج کے حالات بدل جائیں اور سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کوئی دوسرا نقشہ لوگوں کے لیے قابل قبول بن جائے۔ اس حکمت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی ان کا معاملہ ان کے آپس کے مشورے کے تابع ہے۔ اس آیت میں امر سے مراد اقتدار کا معاملہ ہے۔ اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہ ہو، بلکہ وہ لوگوں کی آزاد رائے کے تابع ہو۔ آج کل کی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی ادارے کا معاملہ عوامی الیکشن کے تابع ہے۔ فری اینڈ فیر الیکشن (free and fair election) کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوں گے، ان کو حق ہو گا کہ وہ اُس وقت تک حکومت کا نظام چلائیں جب تک

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page