God is Imaginary, God Does not Exist
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
76 سال کی عمر میں 1955 میں اس کی وفات ہوئی۔ خدا کے بارے میں آئن سٹائن کے خیالات کیا تھے، اس کا اظہار آئن سٹائن کے ایک مطبوعہ خط سے ہوتا ہے۔ یہ خط اس نے 3 جنوری 1954 کو اپنی ہینڈ رائٹنگ میں جرمن زبان میں ایک یہودی فلاسفر ایرک بی گٹ کائنڈ (Eric B. Gutkind) کے نام لکھا تھا۔ اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ خدا کا لفظ میرے نزدیک اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کا ایک اظہار ہے:
موجودہ زمانے میں خدا کے عقیدے کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں اور جو مقالات شائع ہوئے ہیں، ان کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہے۔ اس نوعیت کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں: God: The Failed Hypothesis, by Victor Stenger, 2007 Society without God, by Phil Zuckerman, 2008 God is not Great, by Christopher Hitchens, 2009 انترنت پر اس نوعیت کی کئی مستقل ویب سائٹس ہیں۔ مثلاً:
God is Imaginary, God Does not Exist
اس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی موضوع سائنس سے۔ سائنس کو اس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی موضوع سائنس ہے۔ سائنٹس کو موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ طاقت ور علمی موضوع سمجھا جاتا ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ سائنس کے تمام شعبوں سے خدا کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ سائنس بظاہر تخلیق (creation) کے مطالعے کا نام ہے، مگر سائنس کی تمام شاخوں میں خالق (Creator) کو پوری طرح حذف کر دیا گیا ہے۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے موجودہ زمانے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں واضح طور پر ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) پایا جاتا ہے۔ یہ دریافت اپنے آپ میں ثابت کرتی ہے کہ یقینی طور پر کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر موجود ہے۔ اس کے باوجود سائنٹفک کمیونٹی (scientific community) خدا کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔