خدا کا حصہ پیغمبر کو دینا
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عام منصوبے کے مطابق، اس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔
اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس نسل کی اعلیٰ خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیرؤوں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے۔ اسی خصوصی نسل میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلیٰ نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ دراصل اسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی۔ قرآن میں اس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہ راست طور پر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: يُرِیدُونَ لِیُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ - هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9) یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمايا ہے۔