حب شدید کا تعلق
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساس تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے۔ اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جو خطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے: لا إله إلا الله وحده، صدق وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 4547) یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔
حب شدید کا تعلق
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو حب شدید (2:165) کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے، کسی اور سے نہیں۔ حب کا مطلب ہے: اسٹرانگ افکشن (strong affection)، یعنی شدید قلبی تعلق۔ بعد کے دور کے مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ جذباتی طور پر اُن کے لیے حب شدید کا مرکز اللہ کے بجائے پیغمبر بن گیا۔ اس طرح اُن کے جذبات کا مرجع بدل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اہانت پر مشتعل نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے پیغمبر کی اہانت پر سخت مشتعل ہوجاتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، انھوں نے مشرکین کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے یہ کیا کہ اللہ کے کارنامے کو اپنے پیغمبر کا کارنامہ سمجھ لیا، جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اس کو انھوں نے اپنے پیغمبر کے حصے میں ڈال دیا۔ سیرت اور تاریخ کی کتابیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیرت اور تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئیں ۔ سیرت رسول کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان غزواتِ رسول (مغازی) بن گیا، اور تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان شاہ نامہ اسلام اور فتوح البلدان قرار پایا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ سیرت رسول اور تاریخ اسلام کی کتابوں میں خدا کا عامل (divine factor) حذف ہوگیا۔