کامیابی کس کے لیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
پیداوار ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت معاذ بن جبل والی روایت سے جو اجتہاد کا نکتہ ہمیں ملتا ہے، وہ اصل میں فقہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ میں نے اپنے گھر میں آپ کی ہر کتاب رکھی ہوئی ہے اور اُس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ الرساله خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے اسکول کے پرنسپل صاحب کو بھی دیتا ہوں۔ میری اکثر دعا ہوتی ہے کہ خدا آپ کو لمبی عمر دے اور تندرست رکھے۔ میں ایم اے انگلش کا اسٹوڈنٹ ہوں اور ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر بھی ہوں۔ ( شہزاد احمد، پاکستان )
جواب
1۔ موجودہ زمانے میں علم فلکیات کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پیشگی طور پر رویتِ ہلال کا ٹھیک ٹھیک یقین کیا جا سکے۔ اس لیے ذاتی طور پر میری رائے ہے کہ آبزرویٹری کے فلکیاتی مشاہدہ کے تحت جو کیلنڈر بنتے ہیں، اُس کیلنڈر کو بنیاد بنا کر رمضان اور عید کے چاند کا تعین کرنا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ میری یہ رائے ہے کہ علما چوں کہ ابھی تک اس مسئلے پر متفق نہیں ہوئے ہیں، اس لیے دفعِ فتنہ کے لیے عملاً وہی کرنا چاہئے جو علما کی اکثریت کا مسلک ہے۔
2۔ موجودہ زمانے کے سیکولر اہلِ مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں، لیکن اُن کا طریق مطالعہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم آپ مذہب کو وحی کا ظاہر ہ سمجھتے ہیں، لیکن سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ اس ذہن کے تحت کرتے ہیں کہ مذہب ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے، اس لیے وہ مذہب کا مطالعہ کر کے بھی مذہب کو اپنا عقیدہ نہیں بنا پاتے۔ اس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ اُن کے طریق مطالعہ کو بدلا جائے۔ اس موضوع پر میں اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ 3۔ حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں فقہ کا لفظ موجود نہیں ہے اور میرا کہنا یہی ہے کہ فقہ کا لفظ اپنے موجودہ مفہوم کے اعتبار سے، ایک بعد کی اصطلاح ہے، دورِ اول میں یہ اصطلاح موجود نہ تھی۔ آپ کے وطن میں آپ جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان افراد سے ربط قائم کریں اور اجتماعی کوشش سے اپنے علاقے میں الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائیں۔