Al-Risala · June 2013 · page

قابل تقلید ماڈل

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو نا قابل قیاس حد تک وسیع تھا۔ اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالم صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالم کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہلِ علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کر دیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔

قابل تقلید ماڈل

قرآن کی سورہ الصف میں پیروانِ مسیح کے اس ماڈل کو اہلِ ایمان کے لیے قابل تقلید ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے مراد خاص طور پر پیروان مسیح کی تاریخ کے یہی دو واقعات ہیں۔ پہلا واقعہ وہ ہے جو حضرت مسیح کے بعد کی ابتدائی صدیوں میں پیش آیا، اُس وقت پیروانِ مسیح کو سخت طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں رَدِ عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جو حضرت مسیح نے اُن کو ان الفاظ میں بتایا تھا اپنے دشمن سے محبت کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی طرف سے اگر تم کو دشمنی کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچاؤ اور ایک طرفہ طور پر پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاؤ۔ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد سامنے آیا، یعنی عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دینا، جیسا کہ پیروانِ مسیح نے کیا۔ انھوں نے مسلح کروسیڈ کے میدان میں اپنی کوششوں کو بے نتیجہ پایا تو انھوں نے ڈائورژن کا طریقہ اختیار کیا، اس طرح کہ عسکری میدان کو چھوڑ کر پر امن سائنسی میدان میں اپنے آپ کو سرگرمِ عمل کر لیا۔ امت مسلمہ کی کوتاہی عجیب بات ہے کہ سورہ الصف میں مسلمانوں کو جو عملی نصیحت کی گئی تھی، اس کو وہ اختیار نہ کر سکے۔ مسلمانوں سے یہ مطلوب تھا کہ وہ پیروانِ مسیح کے اُس ماڈل کو اپنائیں جس کو قر آن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ یہی وہ پر امن ماڈل ہے جس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page