Al-Risala · January 2013 · page

دابہ کی تحقیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

معنی میں ہے، یعنی دلالت کرنا، شہادت دینا۔ لفظ کلام کے مادہ کا یہ استعمال خود قرآن میں دوسرے مقام پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ الروم میں ارشاد ہوا ہے : أم أنزلنا عليهم سلطاناً فهو يتكلم بما كانوا به يشركون (30:35) یعنی کیا ہم نے اُن پر کوئی سند اتاری ہے کہ وہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنے کو کہہ رہی ہے۔

جس طرح سورہ الروم کی اِس آیت میں کلام بزبان حال کے معنی میں آیا ہے، اِسی طرح سورہ النمل کی مذکورہ آیت میں کلام کا مادہ کلامِ حال کے معنی میں آیا ہے، یعنی دونوں ہی آیتوں میں کلام کا مادہ زبانِ حال کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، نہ کہ زبانِ قال کے مفہوم میں۔ آیت کا آخری ٹکڑا یہ ہے :

2- أنّ الناس كانوا بآياتنا لا يوقنون - یہاں آیات (signs) سے کیا مراد ہے ۔ اِس کی وضاحت قرآن کی اِس آیت سے ہوتی ہے: قيل يا نوح اهبط بسلام منا وبركات عليك وعلى أمم ممن معك وأمم سنمتعهم ثم يمسهم منا عذاب أليم (11:48)۔

اِس آیت میں مس عذاب“ کا ذکر ہے۔ اِسی کے ساتھ یہاں ایک اور چیز محذوف ہے، وہ یہ کہ کچھ افراد بچا لئے جائیں گے جس طرح کشتی نوح کے افراد بچا لئے گئے اور دوسرے لوگ جو عذاب کے مستحق تھے ، وہ ہلاک کردئے گئے ۔ سفینہ کا لفظ حضرت نوح کی کشتی کو بتاتا ہے اور دابہ کا لفظ اُس کشتی کے رول کو۔

قرآن کی آیت دابہ کے حسب ذیل تین حصے ہیں :

1. وإذا وقع القول عليهم ۔

2. أخرجنا لهم دابة من الأرض۔

3. تكلمهم أن الناس كانوا بآياتنا لا يوقنون (82:27)۔

آیت کے پہلے حصے کا تعلق اللہ کے فیصلے سے ہے، یعنی دابہ کا خروج اُس وقت ہوگا جب کہ اللہ تعالیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page