کشتی کا انتخاب کیوں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
موجودہ دنیا میں انسانی تاریخ کے خاتمے کا فیصلہ فرمادے۔ آیت کے دوسرے حصے کا تعلق قدرتی حالات سے ہے، یعنی فطری اسباب کے تحت ایسے حالات کا پیدا ہونا جب کہ دابہ (کشتی نوح) کا برفانی کور (cover) ہٹ جائے اور وہ پورے طور پر لوگوں کے سامنے آجائے۔ آیت کے تیسرے حصے کا تعلق انسان سے ہے، یعنی جب ایسا ہوگا تو یہ انسان کی ذمے داری ہوگی کہ وہ اس واقعے کو لے کر اس کی تاریخ لوگوں کے سامنے بیان کرے، اس واقعے میں سبق کا جو پہلو ہے، اس سے لوگوں کو باخبر کرے۔ آیت کا تیسرا حصہ جو انسان سے متعلق ہے، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن کو ماننے والے اس وقت اٹھیں اور قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچائیں، کیوں کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور قرآن کی پیشین گوئی کی تصدیق ہوگی۔
یہ واقعہ لوگوں کے لئے اس بات کی دعوت ہوگا کہ وہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھ کر پڑھیں اور اس کے ذریعے اُس پیغام کو جو اللہ کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا گیا تھا، اُس کو ایک ثابت شدہ صداقت کی حیثیت سے قبول کرلیں۔
کشتی کا انتخاب کیوں
صور اسرافیل قیامت کا ناطق اعلان ہے اور کشتی نوح (دابہ) قیامت کا غیر ناطق اعلان۔ صور اسرافیل جس حقیقت کو بول کر بتائے گا، اسی حقیقت کا اعلان خاموش زبان میں کشتی نوح (دابہ) کے ذریعے کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لئے کشتی کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ حسب ذیل پہلوؤں پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کشتی ہی اس مقصد کا سب سے زیادہ بہتر ذریعہ بن سکتی تھی: 1۔ سنت اللہ کے مطابق، کشتی کے لئے لفظ دابہ کی صورت میں ایک ملتبس نام (disguised name) درکار تھا اور کشتی کے لئے لفظ دابہ کی صورت میں ایک ملتبس نام نہایت آسانی سے حاصل ہوتا ہے۔
2۔ مطلوب مقصد کے لئے ایک ایسی چیز درکار تھی جو طوفان میں تیر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues