Al-Risala · June 2013 · page

الرسالمشن

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

سوال وجواب سوال حسبِ ذیل سوالات کی وضاحت مطلوب ہے۔ (ایک قاری الرسالہ، پاکستان)

آپ نے اپنے امریکا کے سفر (الرسالہ، جنوری 2012) میں یہ بات لکھی ہے کہ قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ مگر امریکا کی معیشیت جو سراسر سود پر استوار ہے، اس کی ترقی کو دیکھ کر آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قرآن کی سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے والی بات جدید ذہن کے لیے قابل فہم نہیں۔ اس کے بعد آپ ان الفاظ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ یہاں قرآن جس برکت کا ذکر کر رہا ہے، وہ ذہنی اور اسپرچول ترقی ہے (صفحہ: 26-25)۔ مگر ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں پایا جاتا ہے جس سے یہ مفہوم نکالا جائے۔ آیت کا سیاق واضح طور پر بتا رہا ہے کہ سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا تعلق آخرت سے ہے، نہ کہ دنیا سے۔ آپ ضعیف احادیث سے بکثرت استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2011، صفحہ 37 پر مذکور روایت (إن الدنيا خلقت لكم، وأنتم خلقتم للآخرة)۔ دوسری چیز جو میں قابلِ اصلاح سمجھتا ہوں، وہ مسلم لیڈر شپ کا نام لے کر براہ راست تنقید ہے۔ آپ کی تنقید سوفی صد درست ہے۔ میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کی ذات یا نیت پر تنقید کرتے ہیں۔ بس میری ناقص رائے میں تنقید رویوں پر ہونی چاہیے، شخصیات پر نہیں۔

اگلی چیز جو قابلِ اصلاح ہے، وہ آپ کا اپنے بارے میں خبرنامہ وسفرنامہ میں دوسروں کی رائے کا نقل کرنا ہے۔ اللہ نے آپ کو جو مقام ومرتبہ دیا ہے، وہ کافی ہے۔ اس کے بعد عاجز انسانوں کی اپنے بارے میں رائے نقل کرنا آپ کی سطح کی معرفت رکھنے والے شخص کے لیے شاید مناسب نہیں۔ جواب 1- آخرت کا معاملہ کوئی علاحدہ معاملہ نہیں ہے، وہ پوری طرح موجودہ دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن وحدیث میں جس چیز کو تزکیہ کہا گیا ہے، اُس کے لیے میں نے ذہنی اور روحانی ارتقا کا لفظ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page