کشتی کا انتخاب کیوں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
جائے ۔ یہ کام صرف کشتی کے ذریعے ہو سکتا تھا۔
3- اس کام کے لئے ایک ایسا ذریعہ درکار تھا جو کچھ لوگوں کو بچائے اور کچھ لوگوں کو تباہ کردے۔ یہ کام بھی صرف کشتی کے ذریعے ممکن تھا۔
4- اس کام کے لئے ایک ایسی چیز کی ضرورت تھی جو ہزاروں سال تک برف کے نیچے دب کر باقی رہے اور بعد کو ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے سامنے آئے۔
5- کشتی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہ کیمیائی عمل کے تحت فاصل (fossil) بن کر محفوظ رہے، تاکہ وہ بعد والوں کے لئے ایک نشانی بنے۔
یہ تمام صفات کشتی میں موجود تھیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی سنت (6:8) کے مطابق، کشتی وہ واحد چیز تھی جس کے لیے دابّہ کی صورت میں ایک ملتبس نام (disguised name) مل سکتا تھا۔ اللہ کی سنت کے مطابق، کشتی کا حوالہ کشتی کے نام سے دینا مطلوب نہیں تھا، بلکہ اس کا حوالہ ایک ایسے بالواسطہ نام کے ذریعہ دینا مطلوب تھا جس کو صرف غور کر کے سمجھا جا سکتا ہو۔ اس کے لیے دابہ نہایت موزوں نام تھا، کیوں کہ کشتی بھی پانی پر رینگتی ہے اور دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا۔ قرآن میں ہے کہ جب وقت آئے گا تو ہم، لوگوں کے لئے زمین سے ایک دابہ (رینگنے والا) نکالیں گے (27:82)۔ یہ الفاظ بہت خوبی کے ساتھ اصل واقعہ کو بتاتے ہیں۔ کیوں کہ کشتی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اس کے اوپر برف کی بہت موٹی تہ جم گئی۔ پھر گلوبل وارمنگ کے زمانے میں برف پگھلنا شروع ہوئی تو دھیرے دھیرے کشتی کھل کر سامنے آگئی۔ ’’رینگنے والی چیز‘‘ کا زمین سے نکلنا بالکل لفظی طور پر اس واقعہ کی تصویر کشی کر رہا ہے۔
قرآن میں دابہ کا ذکر جہاں آیا ہے، وہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا اور یہ خبر دے گا کہ لوگوں نے اللہ کی آیتوں (signs) پر یقین نہیں کیا۔ قرآن میں دابہ کے بارے میں اتنا ہی بتایا گیا ہے۔ قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگ دابہ کی بات سنیں گے تو اس کے بعد تمام لوگ اس کو ماننے والے بن جائیں گے۔ قرآن سے یہ تو ثابت ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا،
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues