تفرق فی الدین کا ظاہر ہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
اس حقیقت کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تفرق فی الدین کا مطلب ہے ۔ دین خداوندی کے بجائے دینِ اکابر پر قائم ہو جانا ۔ کسی امت پر جب یہ وقت آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور رسول کا نام نہ لے۔ اللہ اور رسول کا چرچا تو بدستور اُن کے درمیان جاری رہتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، لوگ اپنے اکابر کے دین پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر اللہ اور رسول کا نام لیتے ہیں، لیکن صرف اس لیے کہ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک کو اللہ اور رسول کے حوالے سے درست ثابت کر سکیں۔ کسی امت کی یہ حالت ایک غیر مطلوب حالت ہے۔ ایسے گروہ، خواہ وہ اپنے آپ کو دینی گروہ یا خدائی گروہ قرار دیں، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا کیس تفرق فی الدین کا کیس ہے، ان کا کیس اتباع دین کا کیس نہیں۔ اللہ کے نزدیک وہ اپنے خود ساختہ اکابر کے دین پر ہیں، نہ کہ حقیقتاً خدا اور رسول کے دین پر۔ تفرق فی الدین کا یہ ظاہر ہ صرف پچھلی امتوں کے ساتھ مخصوص نہیں۔ یہ دراصل دورِ زوال کا ظاہر ہ ہے جو ہر امت کے بعد کے دور میں لازماً پیدا ہوتا ہے۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، یقیناً وہ امتِ مسلمہ میں بھی پیدا ہوگا۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة. قالوا و من هي يا رسول الله، قال ما أنا عليه وأصحابي (سنن الترمذي، رقم الحديث: 4641) یعنی بنی اسرائیل 72 گروہ میں بٹ گئے اور میری امت 73 گروہ میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ہر گروہ آگ میں ہوگا، سوا ایک گروہ کے۔ صحابہ نے پوچھا کہ یہ کون سا گروہ ہے جو آگ سے محفوظ ہوگا، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: وہ گروہ جو میرے اور میرے اصحاب کے راستے پر ہوگا۔
اس حدیث رسول میں 73 سے مراد عدد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کثرت ہے، یعنی کثیر تعداد میں فرقوں کا وجود میں آنا۔ فرقوں کی یہ تعداد 73 سے کم بھی ہوسکتی ہے اور 73 سے زیادہ بھی۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ”73“ فرقوں میں تمام فرقے غیر ناجی ہوں گے اور صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا۔ قانون خداوندی کے مطابق، نجات ہمیشہ مبنی بر فرد ہوتی ہے، نہ کہ مبنی بر جماعت۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues