تفرق فی الدین کا ظاہر ہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
"فرقہ ناجیہ" کا تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اس تصور کا کوئی تعلق مذکورہ حدیث رسول سے نہیں۔ اس حدیث رسول کا مطلب صرف یہ ہے کہ آخرت کی نجات فرقہ کی بنیاد پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہوگا کہ مختلف فرقوں میں سے جو افراد اپنی انفرادی حیثیت میں اللہ کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر قائم ہوں گے، وہ آخرت میں نجات کے مستحق قرار پائیں گے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، تفرق کے معاملے کا آغاز اکابر امت سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ حالات کے زیر اثر ایک بات کہتے ہیں جو بعد کے زمانے میں غلو اور تعصب کی بنا پر ایک علاحدہ مسلک بن جاتی ہے اور آخر کار وہ ایک جامد فرقہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ واقعہ بنیادی طور پر دو سبب سے پیدا ہوتا ہے— ایک، شفٹ آف امفیس (shift of emphasis) اور دوسرے، اجتہادی خطا۔ ان دونوں صورتوں کی مثالیں یہاں نقل کی جاتی ہیں، ماضی کی تاریخ سے بھی اور حال کی تاریخ سے بھی۔ امت مسلمہ کے ماضی میں شفٹ آف امفیس کی ایک مثال صوفیا کے یہاں ملتی ہے۔ صوفیا کا زمانہ وہ ہے جب کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہو گئیں۔ صوفیا نے دیکھا کہ سیاست کا ذہن بہت بڑھ گیا ہے اور اس کے مقابلے میں لوگوں کے اندر دین کا روحانی پہلو بہت دب گیا ہے۔ ان حالات میں صوفیا نے دین کے روحانی پہلو یا اعمالِ قلب پر اس طرح زور دیا جیسے کہ وہی دین میں سب کچھ ہو۔ صوفیا کے بعض متنازع طریقوں سے قطع نظر، اُن کا کیس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، شفٹ آف امفیس کا کیس تھا۔ یہ معاملہ ویسا ہی تھا جیسے ایک عالم کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ لوگ مسح علی الخفین کو غیر افضل سمجھنے لگے۔ اُس وقت انھوں نے مسح علی الخفین کے طریقے پر زور دینے کے لیے یہ فتوی دیا کہ: المسح على الخفين واجب (خفین پر مسح واجب ہے)۔ صوفیا کے اس شفٹ آف امفیس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر پر اسرار مذہبیت" آ گئی اور عقلی غور وفکر اور حقیقت پسندی کا تقریباً خاتمہ ہو گیا۔
دوسری صورت اجتہادی خطا کی ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو عباسی دور کے فقہا کے یہاں نظر آتی ہے۔ اُس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حدیثیں اور صحابہ کے آثار جمع کیے گئے اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues