Al-Risala · July 2013 · page

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

ان کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا گیا۔ اُس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ صحابہ کے یہاں عبادت کے طریقوں میں بہت سے جزئی فرق پائے جاتے ہیں۔ اس معاملے کی بابت رہنمائی حدیث میں موجود تھی، کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا تھا: بأيھم اقتديتم اھتدیتم (کشف الخفاء: 1/146)

اس حدیث رسول کے مطابق ، عبادت کے طریقوں میں جزئی فرق تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، وہ حق اور ناحق کا مسئلہ نہ تھا، ان میں سے ہر طریقہ یکساں طور پر درست تھا۔ لیکن دور عباسی کے فقہانے اجتہاد کر کے یہ کہا کہ: الحق لا یتعدد (حق کئی نہیں ہو سکتے)۔ چناں چہ انھوں نے بحث و تنقیح کر کے ترجیحات قائم کیں۔ انھوں نے ایک طریقے کو اختیار کیا اور دوسرے طریقے کو قابل ترک قرار دیا۔ مختلف فقہانے اپنے اپنے طریقے پر اس کام کو انجام دیا۔ اس طرح مختلف فقہی اسکول بن گئے جنھوں نے بعد کو غلو اور تعصب کی بنا پر آخر کار جامد فقہی مذہب کی صورت اختیار کر لی۔ اب اس معاملے میں بعد کے زمانے کی مثال لیجیے۔ موجودہ زمانے میں شفٹ آف مفیس (shift of emphasis) کی ایک مثال اُس دینی گروہ میں ملتی ہے جس کو عام طور پر تبلیغی جماعت کہا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) نے اپنے زمانے میں دیکھا کہ لوگ عام طور پر نمازوں سے غافل ہیں۔ مسجدوں کا وہ حال ہو گیا جس کو علامہ اقبال نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا :

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

اس صورت حال کی بنا پر مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے نماز کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا۔ نماز کو زندہ کرنے کے لیے انھوں نے ایک مستقل تحریک اٹھائی۔ لیکن بعد کو یہ تحریک غلو اور تعصب کا شکار ہو گئی۔ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ دین صرف "مسجد وار تحریک" کا نام ہے۔ حالاں کہ دین کی دعوت و تبلیغ ایک انسان وار تحریک ہے، وہ محدود معنوں میں صرف مسجد وار تحریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں اجتہادی خطا کی ایک مثال جماعت اسلامی ہے جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page