Al-Risala · January 2013 · page

پیغمبرانہ یادگاریں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

لیکن یہ بات قرآن میں نہیں ہے کہ لوگ دابۃ کے کلام کو سن کر اُس کے مومن بن جائیں گے۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور دوبارہ اُسی نوعیت کا ہوگا جیسے کہ نوح کے زمانے میں ہوا تھا۔ حضرت نوح کی دعوت و تبلیغ سے ان کے زمانے کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے۔ اسی طرح یہی معاملہ بعد کے زمانے میں بھی پیش آئے گا، یعنی دوسری بار بھی صرف کچھ لوگ اس سے اثر قبول کریں گے اور زیادہ لوگ اس کو نظر انداز کر دیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں دابہ (کشتی نوح) کا ظہور صرف اعلان کے لئے ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوگا کہ تمام لوگ اس کے مومن بن جائیں اور دنیا میں کوئی خدا کا انکار کرنے والا باقی نہ رہے۔

پیغمبرانہ یادگاریں

حضرت نوح سے حضرت محمد تک خدا کے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے۔ اُن میں سے تین پیغمبر ایسے ہیں جن کی مادی یادگاریں آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ یہ تین پیغمبر ہیں— حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت محمد۔ تین پیغمبروں کی یہ مادی یادگاریں علامتی طور پر دعوت کے تین دور کو بتاتی ہیں۔ پہلی مادی یادگار حضرت نوح علیہ السلام کی ہے، جو ایک کشتی کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ یہ کشتی علامتی طور پر بتاتی ہے کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ انسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو آخر کار دو گروہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

یہ تقسیم لوگوں کے ریکارڈ (record) کے مطابق ہوگی۔ اور پھر اچھے ریکارڈ والوں کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا اور برے ریکارڈ والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ۔ دوسری مادی یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے جو کعبہ کی صورت میں آج بھی مکہ میں موجود ہے۔ کعبہ علامتی طور پر اُس غیر معمولی منصوبہ بندی (extraordinary planning) کی یادگار ہے جب کہ یہاں کے صحرائی علاقہ میں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا اور پھر توالد اور تناسل کے لمبے دور کے بعد وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page