Al-Risala · July 2013 · page 16

مسئلے کا حل

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳، صفحہ ۱۶

کے افکار پر قائم ہوئی ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب کہ دنیا میں سیاسی تحریکوں کا زور تھا_ اشتراکی تحریک، جمہوری تحریک، قومی آزادی کی تحریک، وغیرہ_ لوگ عام طور پر سیاست کو سب سے بڑی چیز سمجھنے لگے تھے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ان حالات سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اسلام کو اس طرح پیش کیا جیسے کہ وہ کوئی سیاسی نظام ہو، جیسے کہ اس کا نشانہ عالمی حکومت قائم کرنا ہو۔ اس تصور کے تحت مولانا مودودی نے قرآن کی آیتوں کی سیاسی تفسیر کی اور سنتِ رسول کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ یہ واضح طور پر اجتہادی خطا کی ایک مثال تھی۔ کیوں کہ اسلام ایک ربانی تحریک ہے، نہ کہ کوئی سیاسی تحریک۔ (اس موضوع پر راقم الحروف کی ایک تفصیلی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: خطأ فی التفسیر۔

مسئلے کا حل

دوبارہ اصلاحِ حال کے لیے ضروری ہے کہ ہر گروہ برابر اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ اپنے اکابر کے افکار کا بے لاگ انداز میں بار بار جائزہ لیتا رہے۔ جس چیز کو اس کے اکابر نے حالات کے زیرِ اثر اختیار کیا تھا، اُس کو دوبارہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی روشنی میں جانچا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ اس کا تجزیہ کیا جائے، کوئی بھی تحریک یا گروہ اس جائزے سے مستثنیٰ نہیں۔ اس جائزے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ امر حق دوبارہ منقح ہو کر سامنے آجائے گا، ہر گروہ دوبارہ دینِ خداوندی کو دریافت کر کے اُس پر قائم ہو جائے گا۔

ایک عالمِ یار ہنما کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنا کہ وہ حالات کے زیرِ اثر بات کہے یا دین کا ایک تقاضا بیان کرے، اپنی ابتدائی صورت میں وہ تفرق فی الدین کا واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک فرد کا طرزِ فکر یا ایک فرد کا ذاتی اجتہاد ہوگا۔ لیکن جب اُس کے گرد ایک گروہ بن جائے اور وہ تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہو کر ایک جامد گروہ کی صورت اختیار کرلے تو یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے تفرق فی الدین کی برائی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ برائی رفتہ رفتہ شدید ہو کر اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ ہر گروہ شعوری یا غیر شعوری طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page