مسئلے کا حل
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف وہی حق پر ہے اور دوسرے تمام گروہ باطل پر۔ اسی کو قرآن میں تحزُّب کہا گیا ہے۔ جو لوگ تحزب کی اس نفسیات کا شکار ہوں، وہ کسی بھی حال میں اپنے خلاف کوئی تنقید سننے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ تنقید کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ کی گئی ہو۔
تفرق فی الدین ایک مسئلہ ہے، وہ کوئی ابدی برائی نہیں۔ حالات کے زیر اثر ہر امت میں یہ مسئلہ ضرور پیدا ہوتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس مسئلے کا حل بھی بلا شبہ موجود ہے۔ یہ حل وہی ہے جس کو محاسبہ (introspection) کہا جاتا ہے۔ محاسبہ کی ایک قسم وہ ہے جو انفرادی محاسبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں اجتماعی محاسبہ کی بھی تعلیم دی گئی ہے، قرآن کی درج ذیل آیات کا تعلق اسی اجتماعی محاسبہ سے ہے: وَتُوْبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح (اصلاح حال) کا تعلق اجتماعی تو بہ سے ہے۔ اجتماعی تو بہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی ادارے کھلے طور پر اس قسم کا اعلان کریں، مسلمانوں کے دار الافتا اس قسم کے فتوے دیں، مسلمانوں کے میڈیا میں اس قسم کے مضامین شائع کیے جائیں، اسی طرح کی اجتماعی کوشش کو مذکورہ آیت میں اجتماعی تو بہ کہا گیا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے دوبارہ اصلاح حال کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ (30 اپریل 2013)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues