Al-Risala · July 2013 · page

ایک تاریخی قانون

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

ایک تاریخی قانون

قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک تاریخی قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِہٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِیۡنَ ۝ فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذْنِ اللّٰہِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضْلٍ عَلَی الْعَالَمِیۡنَ (2:250-251)۔ یعنی جب جالو ت اور اس کی فوجوں سے اُن (بنی اسرائیل) کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا: اے ہمارے رب، ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جمادے اور منکروں کے مقابلے میں تو ہماری مدد کر۔ پھر انھوں نے اللہ کے اذن سے اُن (فلسطینیوں) کو شکست دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا ۔ اور اللہ نے داؤد کو ملک اور حکمت عطا کیا اور جن چیزوں کا چاہا، اس کا علم بخشا۔ اور اگر اللہ بعض کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے ۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ Had it not been for God’s repelling some people by means of others, the earth would have been filled with corruption. But God is bountiful to mankind. قرآن کی ان آیات میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ واقعہ قبل مسیح دور سے تعلق رکھتا ہے۔ فلسطین کے جنوبی حصہ (southern coastal area) میں ایک واقعہ ہوا۔ بارہویں صدی قبل مسیح میں یہاں ایک قوم آکر آباد ہوئی جس کو تاریخ میں فلسی یا فلسطینی (Philistines) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے یہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بعد کو اُن کے درمیان بگاڑ آیا۔ اُس زمانے میں فلسطین کے شمالی حصے میں بنی اسرائیل آباد تھے۔ فلسطینی، بنی اسرائیل کے خلاف سرکشی کرنے لگے، یہاں تک کہ 1010 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا بنی اسرائیل سے مسلح ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ میں ایک اسرائیلی نوجوان داؤد کی بہادری سے فلسطینیوں کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ 732 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا اس علاقے سے خاتمہ ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page