مسلم تاریخ کی مثال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
قانون الہی کے خلاف ہے، اس لیے اس کا کوئی مفید نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح کہیں ایسا ہے کہ مسلمان پچھلے سیاسی ماڈل کی گرفت سے آزاد نہ ہونے کی بنا پر خاندانی لیڈر شپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ کہیں اگر ان کو کچھ سیاسی اقتدار مل گیا ہے تو وہاں وہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صورت خدا کے منصوبے کے مطابق نہیں، اس لیے وہ نتیجہ خیز بننے والی بھی نہیں۔ رول کی تبدیلی اللہ نے انسان کی ہدایت کے لیے جو دین بھیجا، اُس کے دو تقاضے تھے ایک تھا، اس کی حفاظت (preservation)، اور دوسرا تھا اس کا اظہار۔ دین کی حفاظت کا کام پہلے، بنی اسرائیل کو سونپا گیا، مگر وہ اس میں ناکام ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اَلَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا (62:5)
بنی اسرائیل کی ناکامی کے بعد بنو اسماعیل (امت محمدی) کو دینِ خداوندی کے حامل ہونے کی یہ ذمے داری سپرد کی گئی۔ امت محمدی نے اپنے آغاز کے بعد ہزار سال کی مدت میں دین کی حفاظت کا کام پوری طرح انجام دے دیا۔ اب خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ امت محمدی کو اس کے آغاز کے بعد لمبی مدت تک مددگار قوت کے طور پر سیاسی دبدبہ عطا کیا گیا۔ اس دبدبے کا خاص مقصد یہی تھا کہ دین کا متن (text) اور اس کی تاریخ مستند طور پر محفوظ ہو جائے۔
اس کے بعد دوسرا کام جو مطلوب تھا، اس کو ایک لفظ میں اظہار کہا جا سکتا ہے۔ امت مسلمہ اس دوسرے کام کو انجام نہ دے سکی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو غیر معمولی مواقع دئے گئے تعداد، دولت اور سیاسی طاقت، وغیرہ۔ مگر امت مسلمہ اس دوسرے مطلوب کام کو انجام دینے میں ناکام رہی۔ اٹھارھویں صدی کے آخر میں یہ واضح ہو گیا کہ امت مسلمہ اب اُسی طرح ایک بے جان قوم بن چکی ہے، جیسا کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل اپنے دورِ زوال میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ بے جان ہونے کا مفہوم کسی امت کے بے جان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دینِ خداوندی کو چھوڑ دے اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues