کنڈیشننگ کی حالت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
اعلان کے ساتھ کوئی دوسرا دین اختیار کرلے۔ اس قسم کی تبدیلی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آج ہوگی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ 14 صدیاں گزرنے کے بعد امت مسلمہ پر وہ وقت آگیا جو پچھلی امتوں پر آیا تھا، یعنی مسلمان عملًا ایک بے جان قوم بن گئے۔ اب کوئی بھی اصلاحی جدوجہد ان کو مجموعی طور پر دوبارہ زندہ کرنے والی نہیں۔ اب جو چیز ہونے والی ہے، وہ صرف یہ کہ امت کے کچھ افراد کو شخصی طور پر زندگی ملتی رہے گی، نہ کہ پورے مجموعے کو۔
اس صورت حال کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دھیرے دھیرے امت کی بعد کی نسلوں میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ لوگ اسلام کے نام پر ایک خود ساختہ اسلام (self-styled version of Islam) بنا لیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلام میں اسپرٹ حذف ہوجاتی ہے اور صرف کچھ ظاہری شکلیں باقی رہتی ہیں۔ پھر لمبی مدت تک اُس پر قائم رہتے ہوئے وہ اُس پر پختہ (conditioned) ہوجاتے ہیں۔ اس پختگی (conditioning) کے ساتھ ہمیشہ ایک فرضی یقین (false conviction) جمع ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے وضع کردہ اسلام پر اس طرح جینے لگتے ہیں، جیسے کہ وہ خدا اور رسول کے دین پر قائم ہیں۔ اسی فرضی یقین کا نام بے جان ہونا یا زندگی سے محرومی ہے۔ جو لوگ اس حالت پر پہنچ جائیں، وہ اس صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں کہ وہ دوبارہ اپنی روش پر نظرثانی کرسکیں۔
کنڈیشننگ کی حالت
یہی وہ حالت ہے جس کا ذکر یہود کے حوالے سے قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ (2:88) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف ہے۔ نہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے، اس لیے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔
قرآن کی اس آیت میں غُلف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عبداللہ بن عباس نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: أي قلوبنا ممتلئة علما، لا تحتاج إلى علم محمد ولا غيره (القرطبی 2/25)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues