Al-Risala · January 2013 · page

پیغمبرانہ یادگاریں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

کہا جاتا ہےـ رسول اور اصحابِ رسول اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔ یہ ایک استثنائی گروہ تھا جس کو ایک مستشرق نے ہیروز کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔

تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود ہے۔ مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے۔ حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کی غیر معمولی کوشش سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کو دور شرک کا خاتمہ اور دور توحید کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ حضرت محمد اور آپ کے اصحاب نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اظہارِ دین (48:28) کہا گیا ہے۔

اظہارِ دین سے مراد کوئی سیاسی اظہار نہیں ہے، اس سے مراد زیادہ وسیع نوعیت کا ایک ہمہ جہتی اظہار ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ عالمی واقعہ پیش آیا جس کو انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کہا جاسکتا ہے۔

حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کے ذریعے تاریخ میں جو عمل (process) شروع ہوا، وہ اکیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اس انقلاب کے مختلف پہلو ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، توحید کے حق میں سائنسی شواہد، عالمی کمیونیکیشن، گلوبل موبلٹی (global mobility)، پرنٹنگ پریس، سیاست کا ڈی سینٹرلائزیشن (decentralization of political power)، اداروں کا دور (age of institutions)، وغیرہ۔

انھیں جدید مواقع میں سے ایک یہ ہے کہ نئے حالات کے نتیجہ میں حضرت نوح کی کشتی ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی جو کہ کئی ہزار سال تک برف کی بھاری تہہ کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ دابہ کا نکلنا قرآن کی سورہ النمل میں قیامت سے پہلے کی ایک نشانی کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وإذا وقع القول عليه أخرجنا لهم دابة من الأرض تكلمهم أن الناس كانوا بأياتنا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page