امتِ مسلمہ اور اس کے بعد
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
یعنی ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں، وہ محمد یا کسی اور کے علم کے محتاج نہیں۔ لعنت کوئی پراسرار چیز نہیں، لعنت سے مراد شدید قسم کی کنڈیشننگ ہے جس کی ڈی کنڈیشننگ عام طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں ”علم“ سے مراد معروف معنوں میں علم نہیں، بلکہ خود ساختہ تصورِ دین ہے۔ یہود کا یہ خود ساختہ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علم پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ امانی (2:78) پر مبنی تھا۔ ٹھیک یہی حال موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا ہوا ہے۔ وہ دین کے خود ساختہ ماڈل پر قائم ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد وہ اپنے اس خود ساختہ ماڈل پر اتنے پختہ ہو چکے ہیں کہ اب وہ اُس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ پچھلی امتوں کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: اَلَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ (30:32) یعنی انھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور وہ بہت سے گروہ ہو گئے۔ ہر گروہ اپنے خود ساختہ طریقے پر نازاں ہے۔
یہی حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ہوا ہے۔ وہ خود ساختہ تعبیرات کے مطابق، مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ یہ تمام گروہ خود ساختہ تصورِ دین پر قائم ہیں۔ لیکن لمبی مدت گزرنے کے بعد اب ہر گروہ کا ذہن اپنے ماڈل کے حق میں اتنا زیادہ پختہ ہو چکا ہے کہ اب وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ اُس پر نظر ثانی کرے۔
امتِ مسلمہ اور اس کے بعد
امتِ مسلمہ کے حال اور مستقبل کو سمجھنے کے لیے قرآن کے سورہ الانبیاء کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے: وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ە حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (21:95-96) یعنی جس بستی والوں کے لیے ہم نے ہلاکت مقرر کر دی ہے، اُن کے لیے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں، یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دئے جائیں گے اور وہ نہایت تیزی کے ساتھ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔
یہ قرآن کی دو آیتیں ہیں۔ دوسری آیت میں واضح طور پر مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کا ظہور۔ پہلی آیت میں اگرچہ استقبال کا صیغہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues