امتِ مسلمہ اور اس کے بعد
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اس سے مراد بھی مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، یعنی یا جوج اور ماجوج کے ظہور سے فوراً پہلے کا واقعہ۔
اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں قرآن کے مخصوص اسلوب میں، امت مسلمہ کے مستقبل کا ذکر ہے۔ اس آیت میں دفع کا وہی قانون بیان کیا گیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہاں حرام سے مراد امت کا ’غلف‘ کی حالت تک پہنچ جانا ہے، یعنی دورِ زوال کی حالت۔ اور ہلاک سے مراد یہ ہے کہ جب امت پر یہ حالت آئے گی تو اُس کو خدائی رول کے لیے رد کر دیا جائے گا۔ یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے جو امت مسلمہ پر بھی لازماً آئے گا (لتتبعن سنن من كان قبلكم)، لیکن ایک فرق کے ساتھ، وہ یہ کہ امت یہود کو نظری اور عملی دونوں اعتبار سے رد کیا گیا تھا، لیکن امت مسلمہ کا رد کیا جانا صرف نظری اعتبار سے ہوگا، اس کے بعد بھی عملی طور پر موجودہ دنیا میں اُن کی حیثیت باقی رہے گی، کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی اور نبی آنے والا نہیں جو دونوں اعتبار سے امت مسلمہ کے رد کیے جانے کا اعلان کر سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیات میں صرف پہلی آیت امت مسلمہ کے بعد کے دور کے بارے میں ہے۔ جب کہ قانون فطرت کے مطابق، امت اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکی ہوگی۔ اس آیت میں ہلاکت سے مراد معروف ہلاکت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کہا جاتا ہے۔ آیت میں حرام سے مراد بھی معروف حرام نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جمود کی وہ حالت ہے، جب کہ لوگوں کے اندر بے حسی کا وہ درجہ آجائے جس کو قرآن میں قساوت کہا گیا ہے، یعنی قبولیت (receptivity) کے مادے کا ختم ہو جانا۔
اس معاملے کی مثال فطرت میں پتھر اور زرخیز زمین (soil) کی صورت میں رکھ دی گئی ہے۔ پتھر پر پانی ڈالا جائے تو پتھر اس کو قبول نہیں کرے گا۔ پانی اس کے اوپر سے بہہ جائے گا۔ اس کے برعکس، زرخیز مٹی میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو بھر پور طور پر قبول کر لیتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی قوم زندہ ہو تو اس کے اندر قبولیت کی صلاحیت بھر پور طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب قوم میں جمود آجائے تو وہ قبولیت کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues