اہلِ مغرب کا رول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
کسی امت کی یہ حالت کیوں ہوتی ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرضی یقین (false conviction)۔ دور زوال میں یہ ہوتا ہے کہ امت حقیقتاً بے روح (spiritless) ہو جاتی ہے، لیکن ظاہری طور پر وہ ایک خود ساختہ دین (self-styled version of religion) پر قائم رہتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اپنے اسی خود ساختہ دین پر اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ حقیقی دین اس کے لیے اجنبی (غریب) بن جاتا ہے، خواہ اس کو کتنا ہی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی امت کے اندر کوئی نیا فکری انقلاب (intellectual revolution) لانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ آیت میں ’أنهم لا يرجعون‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اہلِ مغرب کا رول
صحیح البخاری میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (رقم الحدیث: 3062) یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر شخص کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ غیر مومن کے معنی میں آیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو سیکولر انسان کہہ سکتے ہیں۔ اس روایت میں پیشین گوئی کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ بعد کے زمانے میں ایسے سیکولر لوگوں کو اٹھائے گا جو خدا کے دین کے معاملے میں تائیدی کردار (supporting role) ادا کریں گے۔ تاریخی اعتبار سے غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ یہ تائیدی رول بالفعل عمل میں آ چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کی معرفت حاصل کی جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
دو مطلوب رول
اصل یہ ہے کہ دین اسلام کے حاملین سے دو رول مطلوب تھا— ایک رول وہ ہے جس کو قرآن میں حفاظتِ دین (15:9) کہا گیا ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جس کے لیے قرآن میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues