تائید دین کے چاراہم کام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳، صفحہ ۲۹
اظہار دین (48:28) کے الفاظ آئے ہیں۔
حفاظت دین سے مراد ہے دین کا قلمی یا کتابی تحفظ ــــ قرآن کے اصل متن کا مکتوب حالت میں محفوظ ہو جانا، حدیث کا مدوّن مجموعہ تیار ہو جانا، سیرت رسول اور سیرت صحابہ کا لکھی ہوئی حالت میں ریکارڈ ہو جانا، اسلام کا وہ دور جس کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا گیا ہے، اس کو مستند تاریخ کی حیثیت دے دینا، اسلام کی بنیاد پر ایسے ادارے (مسجد، مدرسہ، حج کا نظام، وغیرہ) قائم ہو جانا جن کے ذریعے ابدی طور پر اسلام کو ایک اجتماعی بنیاد حاصل ہو جائے۔ یہ تمام کام ایک لفظ میں، تحفظ دین کے کام ہیں۔ امت مسلمہ نے اپنے ابتدائی تقریباً ہزار سال کے دوران اس کام کو کامل طور پر اور مستند طور پر انجام دے دیا۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ اسلام کا مستند ماخذ نہ صرف لائبریریوں میں موجود ہے، بلکہ پورا ذخیرہ انٹرنیٹ پر اس طرح محفوظ ہو گیا ہے کہ ایک شخص فنگر ٹپ (fingertip) کے استعمال سے ایک لمحے میں اس پورے ذخیرے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
تائید دین کے چاراہم کام
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: مثل أمتي مثل المطر، لا يدرى أوله خير، أم آخره (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2869) یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے یا اس کا آخر زیادہ بہتر ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بارش کا اول اور آخر دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔ اس حدیث میں امت کے دو دور کا ذکر ہے ــــ ابتدائی دور اور آخری دور، ایک پہلو سے امت کا ابتدائی دور بہتر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کا آخری دور بہتر ہے۔
اس حدیث رسول میں دراصل امت کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے جو کہ اب واقعہ بن چکی ہے۔ امت کے پہلے دور میں ایک طرف، دین کو محفوظ دین کی حیثیت دی گئی ہے اور دوسری طرف، اس دور میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نیا پر اس جاری کر دیا۔ اس تاریخی پر اس کا آغاز امت مسلمہ نے کیا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں یہ رول مشرق سے مغرب کی طرف
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues