چار پہلو
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
منتقل ہو گیا۔ اس عمل (process) کے تکمیلی مرحلے میں جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ زیادہ تر اہل مغرب کے ذریعے انجام پائیں۔ اس تاریخی عمل کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں امت مسلمہ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد اہل مغرب نے اس معاملے میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیا، جس کی تکمیل انیسویں اور بیسویں صدی میں ہوئی۔
چار پہلو
1۔ اس معاملے میں اہل مغرب کے ذریعے جو کام انجام پایا، اس کے چار خاص پہلو ہیں اور ان چاروں پہلوؤں کا اشارہ قرآن میں موجود ہے۔ ان میں سے ایک کام وہ ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عنقریب ہم اُن کو آفاق میں اور نفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ اُن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس پیشین گوئی کا ذکر ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس دنیا میں معرفت اور ایمانی رزق کے بے شمار آئٹم ہیں، جن کو قرآن میں آیات اور آلاء اللہ اور کلمات اللہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کا ذکر قرآن اور حدیث میں ابتدائی طور پر موجود ہے، لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا سائنٹفک مطالعے پر موقوف تھا جس کو قرآن میں زمین و آسمان پر تفکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سائنسی مطالعے کے اس کام کا آغاز امت مسلمہ کے افراد نے کیا تھا، لیکن اس کی تکمیل تمام تر اہل مغرب کے ذریعے انجام پائی۔ یہی وہ کام ہے جس کو موجودہ زمانے میں، ماڈرن سائنس (modern science) کہا جاتا ہے۔ ماڈرن سائنس کا نظریاتی حصہ پورا کا پورا قرآن کی اس آیت کی تفصیل ہے۔ قدیم زمانے میں آیاتِ اللہ کا علم صرف عینی مشاہدے کے ذریعے ممکن ہوتا تھا، اہل مغرب نے اس کو وسیع کرکے دور بینی مشاہدہ اور خوردبینی مشاہدے تک پہنچادیا۔ موجودہ زمانے کی نظریاتی سائنس نے فطرت (nature) کے بارے میں جو حقیقتیں دریافت کی ہیں، اُن کے ذریعے سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ انسان تخلیق میں خالق کو دریافت کر سکے، وہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues