چار پہلو
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳، صفحہ ۳۱
معرفت حق کے اُن اعلیٰ درجات تک پہنچ سکے جو قدیم روایتی دور میں انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔ 2۔ اس معاملے میں اہل مغرب کی دوسری دین یہ ہے کہ انھوں نے شکر خداوندی کے نئے بے شمار آئٹم دریافت کیے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انعامات کو شعوری طور پر جانے اور اُن کے لیے منعم کا اعتراف کرے۔ اسی اعتراف کا مذہبی نام شکر ہے۔ شکر کی حیثیت دین کے اہم ترین مطلوب کی ہے، لیکن اعلیٰ شکر، انعامات کی اعلیٰ معرفت ہی سے ہوسکتا ہے، اور یہ وہ کام ہے جو تاریخ میں پہلی بار اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے: وَآتَاكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (34: 14) یعنی خدا نے تم کو وہ سب کچھ دے دیا جو تم نے اُس سے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ یقیناً انسان بہت ظالم اور بہت ناشکر گزار ہے۔
خالق نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں بطور عطیہ دے دی ہیں۔ یہ عطیات سب کے سب خدائی انعامات ہیں۔ ان عطیات کی واقفیت سے اللہ کے لیے بے پناہ شکر پیدا ہوتا ہے۔ یہ عطیات یا نعمتیں بے شمار ہیں، مگر قدیم زمانے میں انسان ان میں سے بہت کم عطیات کو جانتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ بڑا شکر نہیں کر سکتا تھا۔ جدید مغربی سائنس نے فطرت میں چھپے ہوئے بے شمار نئے عطیات کو دریافت کیا اور جدید صنعت اور رٹکنالوجی کے ذریعے اس کو عام انسان کے لیے قابلِ حصول بنا دیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہل مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کر سکے۔ اہل مغرب کا یہ عطیہ بلا شبہ تائیدِ دین کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
3۔ اس سلسلے میں اہل مغرب کی تیسری دین وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے، وہ تمام اہل عالم تک پہنچے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues