چار پہلو
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِیرًا (25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔
یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اس طرح آئی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اُس نے پیغمبروں کے ذریعے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے، وہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ مگر قدیم زمانے میں یہ عالمی پیغام رسانی ممکن نہ تھی۔ قدیم زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام عملاً صرف مقامی طور پر ہوا، وہ عالمی طور پر انجام نہ پا سکا۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار وہ ذرائع اور وسائل وجود میں آئے ہیں جن کو استعمال کر کے کرہ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اللہ کا پیغام پہنچ جائے، زمین پر بسنے والا کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے۔ یہ ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) کے اندر بڑے پیمانے پر رکھ دئے تھے، مگر قدیم زمانے میں ان ذرائع اور وسائل کو دریافت کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ اہل مغرب نے پہلی بار ان کو دریافت کیا اور ان کو صنعتی مصنوعات (industrial products) کی صورت دے کر داعیوں اور مبلغوں کے لیے قابلِ حصول بنا دیا۔
4- قدیم زمانے میں اقوام کی تنظیم (international organisation) کا تصور نہ تھا۔ قدیم زمانے میں صرف سیاسی تنظیم (political organisation) کا تصور تھا، جو کسی بڑی سلطنت کے تحت بذریعہ طاقت قائم ہوتا تھا۔ اس تصور کے تحت قدیم زمانے میں وہ نظریہ وضع ہوا جس کو جنگ برائے امن (war for peace) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ اقتدار کے باہر اصول کی بنیاد پر قوموں کی تنظیم قائم کی جائے جو بین اقوامی معاملات میں اقتدار کے استعمال کے بغیر پر امن طور پر فیصلہ کن رول ادا کر سکے۔
قدیم زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ امن صرف سیاسی اقتدار کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues