Al-Risala · July 2013 · page

چار پہلو

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

اس تصور کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک ساری دنیا میں جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ طریقہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان پر امن تعلقات ہوں ، تاکہ دعوت اور تعلیم جیسا تعمیری کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس لیے اسلام میں یہ مطلوب تھا کہ بین اقوامی امن کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا جائے ۔ بین اقوامی امن کو معاہدات کی بنیاد پر قائم کیا جائے ، نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر۔

پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں جو انقلاب آیا ، اُس کا ایک پہلو یہ بھی تھا۔ اُس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ معاہدات کی بنیاد پر بین الاقوامی امن کا قیام عمل میں آیا۔ یہ معاہدہ حدیبیہ تھا جو 628 عیسوی میں تشکیل پایا۔ اس معاہدہ امن میں براہ راست طور پر اہل مدینہ اور اہل مکہ شامل تھے، لیکن بالواسطہ طور پر یہودی بھی اس میں شامل تھے جو کہ اُس وقت مدینہ کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ تھے۔ تاریخ کا یہ پہلا بین الاقوامی معاہدہ امن تھا جو اس لیے کیا گیا کہ قومی تعلقات کو جنگ کے بجائے امن کی بنیاد پر قائم کیا جائے ۔

معاہدہ حدیبیہ صرف ایک واحد واقعہ نہ تھا، وہ تاریخ میں ایک نئے دور امن کا آغاز تھا۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جو سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچا۔ چناں چہ 1920 میں جنیوا (Switzerland) میں ایک بین اقوامی ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام جمعیت اقوام (League of Nations) تھا۔ اس جمعیت میں کُل 63 قو میں شامل تھیں، البتہ امریکا اس میں شامل نہ تھا۔ یہ تنظیم مستقل ثابت نہ ہوسکی، یہاں تک کہ 1946 میں باقاعدہ طور پر اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس مقصد کے لیے 1945 میں نئی اور زیادہ بڑی تنظیم قائم ہوئی۔ اس کا نام تنظیم اقوام متحدہ (United Nations Organisation) تھا۔ اس دوسری تنظیم میں 193 ممالک شامل ہیں۔ اس کا صدر دفتر نیو یارک (امریکا) میں ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ وہ امن کے میدان میں زیادہ موثر رول ادا کر رہی ہے۔

یہ واقعہ بھی انھیں واقعات میں سے ہے جس کا ذکر ’تائید دین‘ کے طور پر کیا گیا ہے ، اس واقعے کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page