پیغمبرانہ یادگاریں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
لا يوقنون (27:82) اور جب ان پر بات واقع ہو جائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک دابۃ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہمارے نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ قرآن کی یہ آیت 1400 سال سے غیر واضح بنی ہوئی تھی، لیکن حضرت نوح کی کشتی کے بارے میں حال میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، اس کی روشنی میں محفوظ طور پر یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ دابہ سے مراد غالباً حضرت نوح کی کشتی ہے، یعنی پانی کے اوپر رینگنے والا دابہ۔ قرآن میں حضرت نوح کی کشتی کو ایک نشانی (آیت) کہا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں دابہ کو بھی ایک آیت کہا گیا ہے۔ کشتی نوح اور دابہ کے درمیان یہ مشابہت بہت با معنی ہے۔ آغازِ انسانی سے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ ہر دور میں خدا کے پیغمبر آئیں اور انسان کو بتائیں کہ ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے، مگر انسان نے اپنی سرکشی کی بنا پر یہ کیا کہ اس نے پیغمبروں کو نظر انداز کیا، حتیٰ کہ انسانیت کی مدون تاریخ (recorded history) میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہوسکا، پیغمبر عقیدہ کا معاملہ بن گئے، نہ کہ تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت کا معاملہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے بظاہر تخلیق (creation) کو جانا، مگر وہ مقصدِ تخلیق (purpose of creation) سے بالکل بے خبر رہا۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایسا ہوگا کہ اس متھ (myth) کو توڑ دیا جائے گا۔ اور اس متھ کو توڑنے کا ذریعہ ایک پیغمبر کی ایک تاریخی نشانی کا ظہور ہوگا، جس کا ذکر بائبل اور قرآن دونوں میں موجود ہے۔ اس طرح مذہبی عقیدہ ایک علمی مسلمہ بن جائے گا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، دابہ کا لفظی مطلب ہے رینگنے والا۔ حضرت نوح کی کشتی پانی پر رینگنے والی سواری تھی۔ وہ طوفان کے اوپر چلتی ہوئی ترکی کے سرحدی پہاڑ ارارات (Ararat) پر پہنچ گئی۔ اب اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا یہ معاملہ ایک واقعہ بن کر سامنے آگیا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ پوری طرح منظر عام پر آ جائے اور پھر زبانِ حال سے کلام کر کے لوگوں کو بتائے کہ پیغمبر کی جس نشانی کا تم انکار کرتے رہے، وہ اب تمھارے سامنے عیاناً موجود ہے۔ حضرت نوح نے براہ راست طور پر اپنی قوم سے اور بالواسطہ طور پر تمام انسانیت کو بتایا تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues