Al-Risala · July 2013 · page

زحمت میں رحمت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

زحمت میں رحمت

سائنس کی تاریخ کے مشہور واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ برطانیہ کا نوجوان سائنس داں نیوٹن (وفات: 1727) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس وقت سیب کے درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر اس کے سر پر گرا۔ اس چوٹ سے اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان آگیا۔ اس واقعے کے بعد اس نے زمین کی کشش کا نظریہ دریافت کیا:

It is one of the most famous anecdotes in the history of science. The young Isaac Newton is sitting in his garden when an apple falls on his head and, in a stroke of brilliant insight, he suddenly comes up with his theory of gravity. کره ارض کے اندر کشش (gravitational pull) ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کشش کے بغیر زمین پر انسان کی آبادی اور انسانی تہذیب کا وجود ممکن نہ تھا۔ انسانی زندگی کی تمام سرگرمیاں اسی زمینی کشش کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں۔ یہ کشش نہ ہو تو زمین کے اوپر ہوا، پانی، سبزہ، انسانی آبادیاں ہر چیز کا خاتمہ ہو جائے ۔ اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ انسان اس حقیقت کو شعوری طور پر جانے اور اس نعمت پر خالق کا گھر اشکر ادا کرے۔ اللہ نے مختلف فطری نشانیوں کے ذریعے اس کی طرف انسان کو متوجہ کیا۔ مثلاً اوپر کی فضا سے پانی کا نیچے آنا، وغیرہ۔ مگر انسان اس پر غور نہ کرسکا، اس لیے وہ اس دریافت تک بھی نہیں پہنچا۔ نیوٹن کے سر پر سیب کا گرنا گو یا سر پر پتھر مار کر انسان کے ذہن کو بیدار کرنا تھا، تا کہ وہ فطرت کے اس ظاہر سے پر غور کرے اور زمین کی کشش کے قانون کو دریافت کرے۔ گویا یہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ تھا۔ یہ طریقہ کامیاب ہوا اور انسان اس عظیم نعمت کو شعوری طور پر دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جب کہ عام حالات میں انسان ایک حقیقت کو دریافت نہ کر سکا تھا، پھر اس کے ساتھ وہ تجربہ پیش آیا جس کو شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کہا جاتا ہے اور پھر اس نے حقیقت کو دریافت کر لیا۔ اصل یہ ہے کہ ہر زحمت میں ایک رحمت ہوتی ہے، آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھے تو وہ کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page