Al-Risala · July 2013 · page

النساء کا ایک آیت ۸۶ کا تفسیر مہر مفس

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

سلام جیسے معاملے میں مذکورہ قسم کی بحث اُس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ اُس کو خالص فقہی اور قانونی نظریے سے دیکھا جائے۔ اس کے برعکس، اگر اس معاملے کو دعوتی اخلاقیات کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تالیف قلب کا مسئلہ بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کی تمیز مت کرو، بلکہ ہر ایک کو یکساں طور پر مدعو کی نظر سے دیکھو، حتی کہ اگر بالفرض فریق ثانی نے ’’السام علیکم" کہا ہے، تب بھی صفحِ جمیل (15:85) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تم کو اس کے جواب میں السلام علیکم کہنا چاہیے، تاکہ وہ مثبت نتیجہ ظہور میں آئے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ آپ نے لکھا ہے کہ ــ کیا اس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کے ہندو بھائیوں پر بھی ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ یقیناً ہوگا۔ جو مثبت روش آپ کو دوسرے اہل کتاب کے بارے میں اختیار کرنا ہے، وہی مثبت روش آپ کو ہندو مذہب کے لوگوں کے بارے میں بھی اختیار کرنا ہے۔ بعض علما نے ہندوؤں کو "شُبہہ اہل کتاب" لکھا ہے۔ میں اس کو وسیعی معنی میں لیتے ہوئے یہ کہوں گا کہ تمام دنیا کے لوگ یا تو اہل کتاب ہیں، یا شبہِ اہل کتاب، کیوں کہ قرآن میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ: وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (35:24) یعنی دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس میں اللہ کی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو۔

پٹنہ (بہار) کے سنٹر فارپیس کے آفس میں ہر ماہ کے دوسرے اتوار کی صبح 10.30 بجے ممبران کی میٹنگ ہوتی ہے۔ پتہ حسب ذیل ہے:

A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744 صدر اسلامی مرکز کے آڈیو لکچرز سننے کے لئے حسب ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں: http://www.alquranmission.org/DailyLectures.aspx

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page